Breaking News
Home / Blog / Refuting Islamophobic Claims: Part 3 on the Jihadist Narrative Inciting Treachery towards One’s Country اسلاموفوبک دعوے کا رد کہ جہادیت ہی اسلام کی روایتی تشریحات کا ترجمان ہے، قسط ثالث: ملک سے غداری کے لئے ورغلانے والے جہادی بیانیہ کا بطلان

Refuting Islamophobic Claims: Part 3 on the Jihadist Narrative Inciting Treachery towards One’s Country اسلاموفوبک دعوے کا رد کہ جہادیت ہی اسلام کی روایتی تشریحات کا ترجمان ہے، قسط ثالث: ملک سے غداری کے لئے ورغلانے والے جہادی بیانیہ کا بطلان

نیو ایج اسلام خصوصی نمائندہ

(انگریزی سے ترجمہ: نیو ایج اسلام)

امت مسلمہ کے ساتھ وفاداری اور ملک کے ساتھ غداری ایک جہادی بیانیہ ہے جو ملک کے ساتھ غداری کے تصور پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کو اپنے ساتھی شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیوں کو انجام دینے کے لئے اپنائی گئی ہتھکنڈوں میں سے سب سے زیادہ خطرناک ہتھکنڈہ یہ بیانیہ ہے۔ اس کے ذریعہ وہ اپنا ناپاک ایجنڈا یعنی “اسلامک اسٹیٹ” کا قیام چاہتے ہیں ۔ امت کی ان کی تعریف میں صوفی سنی اور شیعہ مسلم شامل نہیں ہیں اور اسی لئےان پر کوئی رحم نہیں کیا جاتا ہے ۔ جہادی نظریہ ساز اپنی دلیل کی تائید کے لئے قرآنی آیات ، احادیث اور ان کی روایتی اور کلاسیکی تشریحات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ جہاد پسندوں کے ساتھ ساتھ اسلاموفوبیا کے شکار لوگ ایک دوسرے بڑے چیلنج کے طور پر ابھر سامنے آتے ہیں جو دعوی کرتے ہیں کہ جہادیت اسلام کی روایتی اور کلاسیکی تشریحات پر مبنی ہے۔ لہذا اس مضمون میں اسلاموفوبیا اور جہادیت دونوں کا رد مقصود ہے۔

قرآن و حدیث اور روایتی ماخذ کی روشنی میں جہادیوں اور اسلام فوبیا کے شکار لوگوں کے رد سے پہلے ، اس جہادی بیانیہ کی نوعیت کا اندازہ لگانا ضروری ہے جو غداری کی تشہیر کرتا ہے، کیونکہ جب تک ہم اسے جانیں گے نہیں اس کی تصحیح بھی نہیں کر سکتے ہیں۔القاعدہ کےیمنی نژاد امریکی عالمِ دین انور العولقی نےاس کا بار بار پر چار کیا ہے کہ اسلام اور مغرب کے مابین ایک جنگ چل رہی ہے۔ العولقی کا مغربی مسلمانوں کی برین واشنگ اور ان کی جہادی بھرتی میں بڑا اہم رول رہا ہے۔”امریکی عوام کے نام ایک پیغام” کے نام سے ۲۰۱۰ میں دیا گیا ایک آن لائن بیان میں انہوں نے مغربی مسلمانوں کو یہ کہہ کر بھڑکایا کہ وفاداری صرف مذہب سے ہونی چاہئے ملک سے نہیں۔ ان کا بیان ہے:

“امریکہ کے مسلمانوں سےمیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا ضمیر آپ کو یہ کیسے اجازت دیتا ہے کہ آپ اس قوم کے ساتھ پرامن زندگی گذاریں جو آپ کے بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ہونے والے ظلم اور جرائم کا ذمہ دار ہے؟ آپ کی وفاداری اس حکومت کے ساتھ کیسے ہو سکتی ہےجو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہی ہے؟ امریکہ کے مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ کیسے اسلام کے بنیادی اصولوں کا آہستہ آہستہ زوال ہوتا جا رہا ہے ۔ لہذا آج آپ کے بہت سارے اسکالرز اور اسلامی تنظیمیں اس بات پر کھلے طور زور دے رہی ہیں کہ مسلمانوں کو مارنے کے لئے مسلمان امریکی فوج میں کام کریں، ایف بی آئی میں شامل ہو کر مسلمانوں کے خلاف جاسوس کریں، یہ تنظیمیں اور یہ اسکالرز آپ کے اور آپ کے فریضہ جہاد کے بیچ کھڑے ہیں۔ “

“آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور آپ کی حالت بالکل ویسی ہی ہو رہی ہے جیسے کہ سقوط غرناطہ کے بعد اسپین کے بر سر جنگ مسلمانوں کی تھی ۔ مغرب کے مسلمانو! ، ذرا غور کرو ، سوچو اور تاریخ سے سبق لو، تمہارے افق پر منحوس بادل چھا رہے ہیں۔امریکہ غلامی ، علیحدگی ، لنچنگ ، اور کو کلوکس کلاںکی سرزمین کے طور پر جانا جاتا تھااور کل یہ مذہبی امتیاز اور حراستی کیمپوں کی سرزمین ہوگی۔ حکومت کے ان وعدوں سے دھوکہ نہ کھانا کہجو ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ وہ تمہارے حقوق کی حفاظت کرے گی لیکن دوسری طرف ابھی اسی وقت تمہارے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو قتل کر رہی ہے۔ آج جبکہ مسلمانوں اور مغرب کے مابین جنگ جاری ہے، آپ یکجہتی کےان پیغاموں پر اعتماد نہیں کرسکتے ہیں جو آپ کو کسی شہری گروہ یا کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ملے، یا کسی مہربان پڑوسییا آپ کے ساتھ کام کر رہے کسی اچھے ساتھیسے حمایت کا پیغام موصول ہو،بالآخر مغرباپنے مسلمان شہریوں کے خلاف ہو گا ۔” (انور العولقی،‘ امریکی عوام کے نام پیغام ، ، یہ اقتباس ” اکیسویں صدی میں ’سنی اسلام‘ کا سلفی جہادی ڈسکورس”میں بھی منقول ہے )

العولقی کے پیغام سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امریکی مسلمانوں کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں یعنی یا تو امریکہ میں رہ کر امریکہ سے جنگ لڑیں یا پھر امریکہ سے ہجرت کر جائیں اور جنگ لڑیں ۔ اور جو لوگ امریکہ کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں ان کی مذمت ہونی چاہئےاور انھیں دائرہ اسلام سے خارج ماننا چاہئےکیونکہ ان کا ضمیر مردہ ہو چکاہے۔

القاعدہ کی جانب سے جاری کردہ انگریزی میگزین “انسپائر” میں العولقی نے مغربی مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ،

“لہذا آپ کو میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ کے پاس صرف دو راستے ہیں یا تو ہجرت کریں یا جہاد کریں ۔ یا تو یوروپ چھوڑدیں یا پھر قتال کریں۔ یا تو یوروپ چھوڑ دیں اور مسلمانوں کے ساتھ رہیں یا پھر وہیں رہ کر اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے قتال کریں۔ میں خاص طور پر نوجوانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ یا تو مغرب میں رہ کر جنگ کریںیا پھر افغانستان ، عراق اور صومالیہ جیسے جہاد کے محاذوں پر لڑ رہے اپنے بھائیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ “

“انسپائر” کے ایک دوسرے شمارے میں العولقی کہتے ہیں :

“گائے یا بت پرستی کےساتھ بقائے باہمی کو اسلام کبھی تسلیم نہیں کر سکتا ہے ” ۔ العولقی کا یہ بیان ماردین اعلامیہ (ڈیکلریشن) کا رد عمل تھا ۔ ترکی کے شہر ماردین میں واقع آرتوكلو یونیورسٹی کےکیمپس میں ۲۷ اور ۲۸ مارچ کو ایک امن کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا، جس میں مسلم دنیا کے ممتاز مسلم علما اور اسکالرز نے شرکت کی تھی اور مسلمانوں کا غیر مسلم بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ تعلقات کی فقہی نوعیت اور اس سے متعلق دوسرے مسائل جیسے جہاد ، وفاداری اور دشمنی ، شہریت ، اورغیر مسلم علاقوں میں ہجرت، کو سمجھنے کی اجتماعی کوشش کی تھی۔ اس اعلامیہ میں علما کرام نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین عدل و انصاف کے لئے پر امن اور ہم آہنگ بقائے باہم اور تعاون کو بنیادی مانا تھا۔

العولقی مزید لکھتے ہیں :

 “مجموعی طور پر اس اعلامیہ کی زبان اسلامی فقہ کی نہیں ہے بلکہ کلاء اور امن کارکنوں کی ملی جلی لگتی زبان ہے” اور” اعلامیہ میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم ہمسایہ مسلمانوں کے خلاف کفر کا الزام نہیں لگا سکتے ہیں اور ہمیں حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی اجازت نہیں ہے، اور ہمیں سلامتی اور تحفظ کے ساتھ رہ رہے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔پھر تو یہ اعلامیہ اکیسویں صدی کی موجودہ صورت حال کی حمایت میں ہے، لہذا اس اعلامیہ کومرتب کرنے والے علما سلفی جہادی تحریک کے دشمن ہیں”۔

العولقی کہتے ہیں کہ امریکیوں کو مارنے کے لئے انہیں کسی مذہبی فتوی کی ضرورت نہیں ہے۔

“امریکیوں کو قتل کرنے سے متعلق کسی سے بھی مشورہ نہ کریں، شیطان سے لڑنے کے لئے فتوی، مشاورت، یا رہنمائی کی دعا کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ وہ لوگ شیطان کے طرفدار ہیں۔ ان سے لڑنا وقت کا فریضہ ہے، ہم اس مرحلے پرپہنچ چکے ہیں کہ جہاں تم یا تو ہما رے ساتھ ہویاان کے ساتھ ۔ ہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں جو کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ جیسا وہ چاہتے ہیں ویسا ہمارے رہتے کبھی نہیں ہوگا۔ یہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے۔ یہ موسیٰ اور فرعون کی جنگ ہے۔ یہ حق اور باطل کی لڑائی ہے۔”

الظواہری نے بھی اپنی کتاب میں مسلمانوں کو کفر کے عالمی محاذ اور اس کے سیکولر “ایجنٹوں” کے خلاف متحد ہوکر اپنے فرائض کا احساس کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں ، ” ہم امت کے تمام فرقوں، طبقوں اور جماعتوں سے جہاد کے کارواں میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں”اور یہ کاروان ، مشرک ظالموں سے دور رہےگا، کافروں کے خلاف جنگ کرے گا مومنوں سے وفاداری رکھے گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ اس فریضہ کی تکمیل کی خاطر مسلمانوں کو اپنے ملک سے لگاو اور وفاداری کو ترک کرنا ہوگا۔کھیل کود ، تفریح ، اسراف اور مستی سے دور رہنا ہوگا اور [خود] کو قتل وقتال اور جنگ و جدال والی حقیقی زندگی کے لئے تیارکرنا ہو گا”۔ (الظواہری ، ۲۰۰۷)

دہشت گردتنظیم القاعدہ نے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے ملک سے غداری کے لیے اکساتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے صفوں کو متحد کریں، اسلحہ جمع کریں اور بھارت کے خلاف جہاد کریں۔

داعش بھی اسی طرح کے غداری والے بیانیےکا پرچار کرتا ہے۔ ہندوستان سے متعلق پروپیگنڈہ میگزین ’’ وائس آف ہند ‘‘ کےپہلے آن لائن شمارے میں “قوم پرستی کی بیماری” کو اجاگر کرنے کے لئے ایک پورا صفحہ مخصوص تھا ۔ قوم پرستی کو ‘بیماری’ اور ‘سرکشی’ بتا کر داعش کا حامی گروہہندوستانی مسلمانوں کو اپنے وطن سے غداری کے لئے ا ورغلانا چاہتا ہے۔ میگزین میں لکھا ہے:

“اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم پرستی کی دعوت اصل میں عصبیت کی دعوت ہے، غیرت اور عصبیت کی خاطر لڑنے کی دعوت ہے۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیںکہ قوم پرستی کی دعوت سرکشی، فخر اور تکبر کی دعوت ہے ، کیونکہ قوم پرستی خدا کی طرف سے نازل کردہ نہیں ہے اور اسی لئے یہ دعوت لوگوں کو ظلم اور تکبر سے نہیں روک سکتی ہے۔ یہ جاہلی نظریہ ہے جو لوگوں کو جاہلی فخر اور عصبیت کی دعوت دیتا ہے ، چاہے لوگ ظالم ہوں یا مظلوم۔ ” (وائس آف ہند ، پہلا شمارہ ، صفحہ نمبر ۸ )

مذکورہ بالا جہادی اقتباسات سے واضح طور پر امریکہ اور ہندوستان میں رہ رہے مسلمانوں کو اپنے ملک سے غداری کی ترغیب ملتی ہے۔ یہ قرآن و حدیث اور اسلام کی روایتی تشریحات کی واضح خلاف ورزی ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے

إِلَّا ٱلَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَـٰقٌ أَوْ جَآءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَـٰتِلُوكُمْ أَوْ يُقَـٰتِلُوا۟ قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَـٰتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ ٱعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَـٰتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا۟ إِلَيْكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًۭا (سورہ النساء، آیت نمبر۹۰)

ترجمہ:

مگر (ان سے نہ لڑو) جو ایسی قوم سے علاقہ رکھتے ہیں کہ تمہارے اور ان کے بیچ معاہدہ ہے، یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں، یا اپنی قوم سے لڑیں، اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے، پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نےتمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی۔

اس آیت میں صلح کرنے والوں سے لڑنے کی ممانعت آئی ہے۔ چاہے امریکہ ہو یا ہندوستان آج دنیا کے تقریبا سبھی ممالک کے اپنے اپنے آئین ہیں، جس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی اور سلامتی کی ضمانت دی گئی ہے۔لہذا جہادیوں کا مسلمانوں کو اپنے ملک کے ساتھ غداری کی دعوت دینا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ ایک شرمناک فعل بھی ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے

لَّا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمْ يُقَـٰتِلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَـٰرِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوٓا۟ إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ

ترجمہ

اللہ منع نہیں کرتا ہے بھلائی کرنے سے اور انصاف کرنے سے ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔

جمہور علماء کا اس بات اتفاق ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں ہے۔ اس آیت کا ظاہری معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان غیر مسلموں کے ساتھ بشمول مشرکین اور کفار،اچھا برتاو کرنا چاہئے، جو دین کے معاملے میں مسلمانوں سے برسرجنگ نہیں ہیں، اور بقائے باہمی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ غیر مسلم ممالک نے مسلمان شہریوں کو ان کے گھروں سے بے دخل نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے تو اپنے ملکوں میں مسلم مہاجرین کا خیرمقدم کیا ہے۔ یقینا یہ ممالک ان کفار مکہ کے جیسے نہیں ہیں جنہوں نے اولین مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالاتھا اور ان کا مذہبی استحصال کیا تھا۔ لہذا جہادیوں کا مسلمانوں کو اپنے ملک کے ساتھ غداری کی دعوت دینا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ ایک شرمناک فعل بھی ہے۔

تمام بنی نوع انسان کے ساتھ امن کی زندگی گزارنے کی ترغیب قرآن کے ساتھ ساتھ احادیث سے بھی ملتی ہے۔ مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان ممالک میں جہاں ان کو مذہبی آزادی ، سلامتی اور امن کی ضمانت ملی ہوئی ہے، امن کے راستے پر چلیں۔

ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

ثلاث من جمعهن فقد جمع الإيمان: الإنصاف من نفسك وبذل السلام للعالم والإنفاق من الإقتار, (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب افشاء السلام من الاسلام)

ترجمہ:

جس نے تین چیزوں کو جمع کر لیا ، اس نے سارا ایمان حاصل کر لیا ، یعنی اپنے نفس سے انصاف کرنا، سلامتی کو دنیا میں پھیلانا، اور تنگ دستی کے باوجود اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

اس حدیث کے مطابق ، دنیا میں امن و سلامتی پھیلانا ایمان کو تقویت بخشنے کا ذریعہ ہے۔ لہذا جہادیوں کا مسلمانوں کو اپنے ملک کے ساتھ غداری کی دعوت دینا نہ صرف ممنوع ہے بلکہ ایک شرمناک فعل بھی ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا “لوگوں کے مابین صلح قائم کرو۔ واقعی ، لوگوں کے درمیان خراب تعلقات استرا ہوتے ہیں۔”

ایک دوسری حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا، “رحمن کی عبادت کرو اور امن پھیلاو۔” (ابن ماجہ)

ایک اور روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اے عقبہ ، جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑو، جو تمہیں محروم کرے اُسکو عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے تم اُسے معاف کرو۔”(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عقبہ بن عامر، الحدیث ۱۷۴۵۷)

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” تکلیف پہونچانا اور بدلہ لینا اسلام میں نہیں ہے۔” (ابن ماجہ ، دار قطنی ، موطا، مستدرک ، امام حکیم اور امام ذہبی کے نزدیک یہ حدیث امام مسلم کے شرطوں کے مطابق صحیح حدیث ہے)۔

حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا

أيها الناس إن دماءكم وأعراضكم حرام عليكم إلى أن تلقوا ربكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا

 لوگو! تمہاری جان و مال اور عزتیں ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے پر قطعا حرام کر دی گئی ہیں۔ ان چیزوں کی حرمت ایسی ہی ہے جیسے کہ تمہارے اس دن کی ، اس ماہ میں اس شہر بیت الحرام میں ہے۔

ان احادیث سے پرامن بقائے باہمی کی ترغیب ملتی ہےلیکن اس کے برعکس جہادیوں کا دعوی ہے کہ اسلام اور مغرب کے مابین ہمیشہ سے جنگ جاری ہے اور یہ کہ اسلام پرامن بقائے باہمی کے ساتھ نہیں رہ سکتا ہے۔ جہادی بیانیہ اوراصل اسلام میں کتنا تضاد ہے!

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَلَا تَبْغِ ٱلْفَسَادَ فِى ٱلْأَرْضِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ (سورہ القصاص، آیت نمبر ۷۷ )

ترجمہ:

اور زمین میں فساد (دہشت اور برائی) مت چاہو، بے شک اللہ فساد کرنے والوں (امن کی خلاف ورزی کرنے والوں) کو پسند نہیں فرماتا ہے۔

مغرب اور ہندوستان نے اپنے مسلمان شہریوں کو امن اور مذہبی آزادی کی پوری ضمانت دے رکھی ہے ، لیکن جہادی نوجوانوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرکے انہیں ریڈیکل بناتے ہیں اور اس طرح امن کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور فساد کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ جہادی فسادی ہیں اور اگر کچھ ممالک اپنے شہریوں کی حفاظت اور قانون کی بحالی کی خاطر ان فسادیوں کو سزا دیتے ہیں تو یہ ان کا فرض ہے۔ مسلمانوں کو جہادیوں کے اس دعوے کا شکار نہیں بننا چاہئے کہ ان ممالک میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، کیونکہ ان کی ہمدردی صرف ان فسادی جہادیوں کے لئے ہوتی ہے جن کو صرف انتقاما مارا جاتا ہے اور سزا دی جاتی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ انہوں نے خود ان ہزاروں مسلمانوں کو ہلاک کیا ہے جو ان کی جہادی تحریک میں شامل نہیں ہوتے ہیں یا ان کے تشریح کردہ اسلام کو نہیں مانتے ہیں۔ لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان اور مغرب میں تمام شہریوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے، اور اگر کوئی ظلم کرے تو قانونی چارہ جوئی کی بھی اجازت ہے، چاہے وہ شہری کسی بھی مذہب کا ہو، آپ کو ان لوگوں کے مذہب پر چلنے کی ضرورت نہیں ہے جو آپ کو سلامتی ، انصاف اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔

قرآن وحدیث کی صحیح تفہیم کے لئے، جہادیوں کو قرآن وحدیث کے پیغامات پرغور کرنا ہوگا۔ اپنے دین کے لئے اللہ نے اسلام کا انتخاب فرمایا، ان الدین عند اللہ الاسلام، اور پھر اسے امن کی تعلیمات سے بھر دیا، اور جنگ کے مقابلے امن کو اس حد تک ترجیح دی کہ نبی کریم ﷺ کے ذریعہ امت مسلمہ کو یہ حکم دیا کہ اگر کوئی امن کا ہاتھ بڑھائے تو اسے قبول کرلو اگرمخالفین کی نیتیں ٹھیک نہ بھی ہوں تو بھی۔ انہیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ ایا وہ ان مرکزی دھارے (مین اسٹریم) کے مسلمانوں کے لئے ناپاک ارادے تو نہیں رکھتے ہیں جو وہابی اسلام نہیں مانتے ہیں، صوفی سنی اور شیعہ مسلمانوں کو ‘مرتد’ اور کافر قرار دے کر قتل کرنے جیسا ارادہ۔

یقینا قرآن وحدیث میں جنگ سے متعلق آیات ہیں ، ہمیں اس سے انکار نہیں ہے۔ لیکن جنگ کی اجازت والی آیتیں مخصوص حالات کے لئے نازل ہوئی تھیں۔ جنگ کے حکم والی آیتیں جان اور مذہب کے دفاع کے لئے نازل ہوئیں تھیں۔ جنگ کی بنیاد ایمان کا انکار نہیں بلکہ مذہبی استحصال تھی۔ یہ بات مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر سے بھی سمجھی جا سکتی ہے۔

لا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔ (سورہ الممتحنہ، آیت نمبر۸)

ترجمہ:

اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے معاملے میں نہیں لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں (وطن) سے نہیں نکالا ، بےشک انصاف کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں۔

جہادیوں کی نظر میں حب الوطنی یا قوم پرستی ایک ’بیماری‘ ہے، اور اسی لئے مسلمانون کو اپنے دیس کے ساتھ غداری کے لئے کوشاں رہنا چاہیے۔ یہ بیانیہ بھی جہالت کا نتیجہ ہے۔ جہادیوں کی اس جہالت کو سمجھنے کے لئے ذیل میں دیئے گئے مضمون کو پڑھیں۔

https://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/ghulam-ghaus-siddiqi-new-age-islam/refutation-of-extremist-ideology-inimical-to-patriotism-hubbul-watani-is-urgently-required/d/118401

” حب الوطنی کا تصور مذہب یا قوم کے مخالف نہیں ہے۔ جس ملک میں ایک شہری کومذہبی حقوق ، سلامتی ، اور آزادی حاصل ہو اس کو اس ملک سے یقینا پیار ہوگا۔ جس ملک میں مسلمانوں کو پانچوں وقت اللہ کے حضور میں سجدہ ریز ہونے اور ہر وقت اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو تویقینا وہ ملک ان کا محبوب وطن ہوگا، اوراس کی حفاظت اور سلامتی کی ذمہ داری ان پر ہوگی۔”

“حب الوطنی جاہلیت کا جزء نہیں ہے۔ اپنے ملک سے پیار ایک ایسا جذبہ ہے جو فطری طور پر ہرشہری میں پایا جاتا ہے اور یہ جذبہ اوربھی بڑھ جاتا ہے جب شہریوں کو تحفظ و سلامتی اور مذہبی رسومات پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ اس کے بر عکس، جاہلیت ایک ذاتی نقص ہے جسے تعلیم ،اعمال صالحہ ، تقویٰ ، اور حقوق العباد اور حقوق اللہ کی پابندی سے دور کیا جاسکتا ہے۔ جس ملک میں ہر شہری کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں بہترانسان بننے کے مساوی مواقع فراہم ہوں وہ ملک جاہلیت کا شکار نہیں ہو سکتا ہے۔”

“دہشت گرد تنظیموں کو حب الوطنی کا مطلب اس لئے سمجھ میں نہیں آیا کیونکہ انہوں نے قرآن کو سمجھنے کا صحیح طریقہ نہیں اپنایا۔ قرآن میں اور متعدد مفسرین کی تفسیروں میں حب الوطنی کے اشارے موجود ہیں۔ حدیث اور اس کی شروحات کی کتابوں میں بھی حب الوطنی کے تصور کی ترغیب موجود ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب بھی سفر سے لوٹتے تو بڑی محبت کے ساتھ مکہ کی دیواروں کو دیکھا کرتے تھے۔ اس حدیث کی شرح میں امام ابن حجر العسقلانی اور امام عینی وغیرہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے حب الوطنی یا وطن سے محبت کا جواز ملتا ہے۔ ” پورا مضمون پڑھنے کے لئے ، اوپر دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔

جہادیت کے راستے پر چلنے سے پہلے، جہادیوں کو بھی صرف اللہ کی عبادت کرنے اور دن رات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی یاد میں بسر کرنے کا پورا مذہبی حق حاصل تھا۔ ان کو نہ تو دفاعی جنگ لڑنے کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی کو ہجرت کی دعوت دینے کی۔ لیکن عام شہریوں پر ظلم اور دہشت گردی جیسے فعل کرنے کےبعد، انہیں اب عالمی سطح پر انتہائی مطلوب مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بڑی حیران کن امر ہے کہ وہ قرآن ، اسلام ، اور جہاد کے نام پر دوسروں کو بھی اپنے جیسے مجرم بننے کی دعوت دے رہے ہیں۔

قرآن کی آیت وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ​ اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔوۡلًا‏ کے مطالعہ سے صلح یا معاہدے کی پاسداری کی اہمیت پر روشنی پڑتی ہے۔ اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر ہر حالت میں معاہدے کی پاسداری ضروری ہے۔ اسے ذرا ہندوستانی تناظر میں سمجھتے ہیں، ہندوستان کی آزادی کے بعد تمام ہندوستانیوں کے باہمی تعاون سے آئین بنا اور سب کی رضامندی سے یہ قرار پایا کہ سب آئین کے مطابق قوانین کی پاسداری کریں گے۔ ہندوستانی مسلمانوں پر اب آئینی معاہدے کی پاسداری لازم ہے۔اگر کوئی اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے ہندوستانی اوراسلامی قانون کے مطابق مجرم قرار دیا جائے گا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ​ اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔوۡلًا(سورہ الاسراء، آیت نمبر ۳۴)

ترجمہ: اپنے عہد (وعدے) کو پورا کرو، یقینا عہد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔

کیا کوئی مسلمان معاہدے کی خلاف ورزی کرکے خدا کے غضب کا سامنا کرنے کی ہمت کرسکتا ہے! اقوام متحدہ کا میثاق (چارٹر)، آئین اور جمہوری قوانین معاہدے کی موجاودہ شکلیں ہیں۔ اگر کوئی مسلمان معاہدے کی خلاف ورزی کرکے خدا کے غضب کا شکار بننے کی ہمت کرے تو ضرور اسے جہادیوں نے برین واش کر کے گمراہ کیا ہوگا۔

پرامن بقائے باہمی کے معاہدے کی خلاف ورزی یقینا غداری ہے ، اورغداری کی ممانعت اسلام میں سختی سے کی گئی ہے۔ دشمنوں کے بھی ساتھ غداری اور خیانت کرنے سے اسلام سختی سے منع کرتا ہے، اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے:

 إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ(سورہ الانفال، آیت نمبر۵۸)

ترجمہ: بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ہے۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جب قیامت کے دن اللہ پچھلی اور اگلی نسلوں کو جمع کرے گاتو ہرغدار شخص کے پیچھے ایک جھنڈا لگا دے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ فلاں شخص غدارہے اور یہ فلاں شخص کا بیٹا ہے۔ (ماخذ: صحیح بخاری 5823 ، صحیح مسلم 1735)

دوسری روایتوں میں ہے کچھ اس طرح ہے۔ “لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يومَ القيامةِ يُعرَفُ بِهِ”۔ “لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ” . وَفِي رِوَايَةٍ: “لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ أَلا وَلَا غادر أعظم مِن أميرِ عامِّةٍ”

اسلام کی روایتی تشریحات کے مطابق بھی اپنے ملک سے غداری ممنوع ہے۔ ثبوت کے طورپرذیل میں کچھ اقتباسات دئے جاتے ہیں۔

زیدی شیعہ مسلک کے امام أحمد بن يحيى المرتضى اپنی کتاب متن الأزهار في فقه الأئمة الأطهار میں فرماتے ہیں کہ اگر دشمن کے علاقے سے گزرتے وقت مسلمانوں کی جان ومال کو امان ملے تو مسلمانوں پر بھی لازم آتا ہے کہ وہ بھی دوسری قوم کو اسی طرح کا امان فراہم کریں اور اگر ان کا مال زبردستی چھین لیا جائے تو اسے لوٹانا ہوگا۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ معاہدے کے رو سے یہ بھی ضروری ہے کہ اس علاقے کے شروط کی کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔( احمد بن یحی المرتضی، متن الأزهار في فقه الأئمة الأطهار، جلد نمبر ۳ ، صفحہ نمبر۷۵۳)

مغرب یا ہندوستان کے آئین میں موجود شرائط کے روسے ہر شہری کو اپنے ملک کے قانون کو ماننا ضروری ہے، اور ملک کے امن و امان اور سلامتی کی خلاف ورزی ممنوع ہے۔

شافعی مسلک کے امام اور اسلامی فقہ کے ممتاز عالم دین ابو اسحاق ابن ابراہیم الشیرازی لکھتے ہیں:

“اگر کوئی مسلمان دشمن کے علاقے میں داخل ہو اور چوری یا قرض لے کرواپس دارالاسلام آجائے اور پھر مالک اپنے مال کی واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کے مال کو واپس کرنا ہوگا کیونکہ امان کا مطلب لوگوں کے مال کی ضمانت ہے” (الشیرازی، المہذب)

موجودہ دور کے مصری عالم محمد نجیب المطیعیفرماتے ہیں کہ یہی خیال امام شافعی کا بھی تھا۔ المطیعی مزید فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ بھی یہ مانتے تھے کہ اگر کسی فرد کو امان کے ذریعہ مال کی حفاظت کی ضمانت ملی ہو تو اس کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو گناہ کا مرتکب ہوگا۔ (النووی،کتاب المجموع شرح المهذب للشيرازي)

سولہویں صدی کے شافعی فقہ کے امام ابن حَجَر الهَيْتمي کی بھی رائے یہ ہے کہ اس طرح کا تحفظ اورامان باہمی ہوتا ہے، لہذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ اگر ان کا غیر مسلموں کے ساتھ کوئی عہد ہے تو اس کی پاسداری کریں۔ جب مسلمانوں کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے اور غیر مسلموں کی حکمرانی یا غیر مسلم اکثریتی ممالک میں رہنے کی کھلی آزادی ملے اور بطور مثال اس ملک پر حملہ ہو جائے تو وہاں کے باشندوں کے لئےاس ملک کا فاع کرنا ضروری ہوگا۔ مزید یہ کہ دنیا کے تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے ملک کے قوانین کا پابند رہیں، کیونکہ انہوں نے قانون کی پاسداری کا معاہدہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر فتح الجواد میں امام الہیتمی لکھتے ہیں :

“لہذا بمقتضائے عہد ہمیں ذمیوں کا دفاع کرنا ہوگا کیونکہ ہمیں دشمن کے علاقے میں بھی اگرکوئی مسلمان وہاں رہ رہا ہو یا پڑوسی ملک میں بھی ایسا ہی کرنا پڑتا ہے، الا یہ کہ کوئی ملک ایسا نکل آئے جس کی وضاحت معاہدے میں نہ ہو۔” (الہیتمی، فتح الجواد، جلد نمبر ۳ صفحہ نمبر ۳۴۶)

قرآن و حدیث اور اسلامی قانون کے بنیادی ماخذوں کی روایتی تشریحات کی کثرت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ملک کے ساتھ غداری کے لئے اکسانے والا جہادی بیانیہ غلط ہے۔ لہذا جہادیوں اور اسلامو فوبیا کے شکار لوگوں کے اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ جہادیت اسلام کی روایتی تعبیر پر مبنی ہے۔

Check Also

Kejriwal should give Rs 1 crore compensation to Danish Siddiqui’s family: IUML leader

By Muslim Mirror Staff New Delhi: Indian Union Muslim League Delhi unit president Nisar Ahmad …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *